انسان کتنا تیز بھاگ سکتا ہے؟

Bookmark and Share

یوسین کا قد چھ فٹ پانچ انچ ہے اور ان کا قد زیادہ تر اولمپک میں حصہ لینے والے ایتھلیٹ سے بہت زیادہ ہے

یوسین بولٹ نے چند ہفتے قبل برلن میں ورلڈ چیمیئن شپ میں سو اور دو سو میٹر کی ریس میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی اس فتح نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ انسان کتنا تیز بھاگ سکتا ہے؟

سنہ انیس سو اڑسٹھ میں امریکی اتھلیٹ جم ہائنز پہلے انسان تھے جنہوں نے سو میٹر کی ریس میں دس سیکنڈ سے کم وقت ریکارڈ کرایا۔ یہ ریکارڈ وقتاً فوقتاً ٹوٹتا رہا لیکن یوسین بولٹ کے آنے کے بعد یہ ریکارڈ وقت کم سے کم ہوتا گیا۔ مئی دو ہزار آٹھ میں انہوں نے سو میٹر کی ریس 9.72 سیکنڈ میں جیتی جبکہ تین ماہ بعد 9.69 سیکنڈ ریکارڈ کرا کر یہ وقت مزید کم کیا اور پھر پچھلے ماہ 9.58 سیکنڈ میں ریس جیت کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ یوسین کا اپنا خیال ہے کہ وہ یہ ریس 9.4 سیکنڈ میں مکمل کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یوسین موجودہ کارکردگی سے بہتر کارکردگی دے سکتے ہیں۔ جب ان کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ وہ ریس جیت گئے ہیں تو وہ ریس کے آخر میں تھوڑے آہستہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی مجموعی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ اور ویسے بھی انہوں نے ابھی تک ایسی ریس میں حصہ نہیں لیا ہے جس میں ہوا ان کے پیچھے سے آ رہی ہو۔

لیکن سوال یہ ہے کہ سو میٹر ریس میں آخرکار بہترین ریکارڈ وقت کیا ہونا چاہیے؟

یوسین کا قد چھ فٹ پانچ انچ ہے اور ان کا قد زیادہ تر اولمپک میں حصہ لینے والے ایتھلیٹ سے بہت زیادہ ہے جو کہ عام طور پر پانچ فٹ نو انچ اور چھ فٹ تین انچ کے درمیان ہوتا ہے۔اس سے زیادہ لمبے ایتھلیٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے لمبے قدم سے زیادہ ان کی جسامت کا ہجم تیز ریس میں نقصان دہ ہوتا ہے۔

چند سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ یوسین کے پٹھوں کا ریشہ مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ یہ ریشہ ایتھلیٹ کو تیز شروعات میں مدد دیتا ہے۔

تاہم دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ماضی میں لمبے ایتھلیٹ ریس کی طرف آئے نہیں اور وہ زیادہ منافعے والی کھیل یعنی باسکٹ بال اور امریکن فٹ بال کی جانب زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

انگلش انسٹیٹیوٹ آف سپورٹ کے رافیل برینڈن کے مطابق یویسن کی فتح سے متاثر ہو کر لمبے افراد اب ریس کی طرف بھی گامزن ہوں گے۔ اور ہو سکتا ہے کہ ریکارڈ وقت مزید کم ہو جائے۔

لیکن ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جو وجہ انسان کی قابلیت پر اثر انداز ہوتی ہے وہ ہے کہ ایتھلیٹ کو ایک مخصوص وقت کے لیے اپنے پیر زمین پر رکھنے ہوتے ہیں تاکہ رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔

برینڈن کا کہنا ہے کہ مشکل ہے کہ کوئی بھی ایتھلیٹ سو میٹر ریس 9.2 سیکنڈ سے کم وقت میں کر سکے۔

-Similar Posts:
    None Found

This entry was posted on Monday, September 7th, 2009 at 3:43 pm and is filed under Urdu News. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. You can leave a response, or trackback from your own site.

Leave a Reply