امریکہ اسلحے کا سب سے بڑا تاجر

Bookmark and Share

امریکی اسلحہ کے خریداروں میں پاکستان بھی شامل ہے

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں کساد بازاری کے باوجود امریکی اسلحہ کی فروخت میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا اور عالمی سطح پر اسلحے کی تجارت میں امریکہ کا حصہ بڑھ کر دو تہائی سے زیادہ ہو گیا ہے۔

امریکہ نے دو ہزار آٹھ میں سینتس ارب اور اسی کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کیا جو کہ اس سال اسلحے کے عالمی بازار میں ہونے والے تمام سودوں کا اڑسٹھ اعشاریہ چار فیصد حصہ بناتا ہے۔ امریکی اسلحہ کی فروخت دو ہزار سات میں پچیس ارب چار کروڑ ڈالر تھی۔

اسلحے کی خریداری میں ترقی پذیر ملکوں کا حصہ چھہتر فیصد سے زیادہ رہا۔ ترقی پذیر ملکوں نے اس سال بیالیس اعشاریہ دو ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا جو کہ سن دو ہزار سات کی بنسبت معمولی سا زیادہ تھا۔ سن دو ہزار سات میں تر قی پذیر ملکوں نے اکتالیس اعشاریہ ایک ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا تھا۔

امریکہ کے بعد اٹلی سن دو ہزار آٹھ میں اسلحہ کی فروخت میں دوسرے نمبر پر رہا اور اس نے صرف تین ارب سات کروڑ ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ روس نے تین ارب پانچ کروڑ ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا اور اس طرح یہ تیسرے نمبر پر رہا۔ روسی اسلحہ کی فروخت سن دو ہزار سات میں دس ارب ڈالر کے قریب تھی جو کم ہو کر سن دو ہزار آٹھ میں ساڑھے تین ارب ڈالر رہ گئی۔

اسلحے کے عالمی بازار میں سن دو ہزار آٹھ میں پائے جانے والے رجحانات کے پس منظر میں امریکی اسلحے کی فروخت میں اضافہ اور بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ایسے سال جبکہ اسلحہ کی فروخت کا کل حجم کم رہا امریکی اسلحے کی فروخت میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سن دو ہزار آٹھ میں عالمی سطح پر پچپن ارب دو کروڑ ڈالر کا اسلحہ فروخت ہوا جو کہ سن دو ہزار سات کی نسبت قدرے کم تھا اور سن دو ہزار پانچ کے بعد سب سے کم سطح پر تھا۔

شنوک ہیلی کاپٹر دفاعی اسلحہ کی نقل و حمل میں استعمال ہوتا ہے۔

ترقی پذیر ملکوں کو روایتی اسلحے کی فروخت کے بارے میں اس رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی اسلحہ کی فروخت میں اضافہ زیادہ تر ایشیا اور مشرق قریب یا جسے مشرق وسطی بھی کہا جاتا ہے کے خریداروں سے دیکھنے میں آیا ہے۔

لائبریری آف کانگریس کے کانگریشنل ریسرچ سروس ڈویژن نے جو کہ ایک غیر جماعتی ادارہ ہے یہ رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ کو اسلحہ کے سودے کی غیر خفیہ معلومات کی سب سے تفصیلی دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کے بین الاقوامی سیکورٹی کے ماہر رچرڈ ایف گریمیٹ نے اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ سن دو ہزار آٹھ میں شدید عالمی کساد بازاری کی وجہ سے بہت سے ملکوں سے نئے آرڈر نہیں ملے اور اس طرح اسحلہ کی مجموعی خرید و فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی۔

رچرڈ ایف گیمیٹ نے عالمی کساد بازاری کے دوران امریکی اسلحے کی فروخت میں اضافے کو غیر معمولی قرار دیا جس میں نئے سودوں کے علاوہ ماضی میں بیچے گئے اسلحے کی مرمت، ان کے پرزے اور ان میں استعمال ہونے والے گولے بارود کی فروخت بھی شامل ہے۔

اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلحے کی خریداری میں ترقی پذیر ملکوں کا حصہ چھہتر فیصد سے زیادہ رہا۔ ترقی پذیر ملکوں نے اس سال بیالیس اعشاریہ دو ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا جو کہ سن دو ہزار سات کی بنسبت معمولی سا زیادہ تھا۔ سن دو ہزار سات میں تر قی پذیر ملکوں نے اکتالیس اعشاریہ ایک ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا تھا۔

امریکی جہاز کے ایف سولہ لڑاکا طیارے پاکستان کی فضائیہ کے استعمال میں بھی ہیں

امریکہ ترقی پذیر ملکوں کو اسلحے کی فروخت میں بھی سرفہرست رہا اور اس نے ان ملکوں کو سن دو ہزار آٹھ میں انتیس ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جو کہ ترقی پذیر ملکوں کو اسلحے کی کل فروخت کا ستر اعشاریہ ایک فیصد حصہ بنتا ہے۔

امریکہ نے سال دو ہزار آٹھ جو بڑے بڑے سودے کیئے ان کی تفصیل دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ امریکہ نے ساڑھے چھ ارب ڈالر کا ایئر ڈیفنس سٹسم یا فضائی دفاع کا نظام فروخت کرنے کا سودا کیا۔ اس کے علاوہ مراکش کے ساتھ دو ارب دس کروڑ ڈالر کے لڑاکا طیارے اور تائیوان کو دو ارب ڈالر کے ہیلی کاپٹر کی فروخت کے سودے بھی شامل ہیں۔

ان ملکوں کے علاوہ امریکی ہتھیاروں کے بڑے خریداروں میں بھارت، عراق، سعودی عرب، مصر، جنوبی کوریا اور برازیل کا نام آتا ہے۔

ترقی پذیر ملکوں میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اسلحے کے سب سے بڑے خریدار رہے۔ متحدہ عرب امارات نے نو ارب ستر کروڑ ڈالر اور سعودی عرب نے آٹھ ارب ستر کروڑ ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ اسلحے کا تیسرا بڑا خریدار مارکش رہا جس نے پانچ ارب چالیس کروڑ ڈالر کا اسلحہ خریدا۔

روس اسلحہ کی فروخت کی اس دوڑ میں امریکہ سے بہت پیچھے ہے لیکن پھر بھی اس نے تین اعشاریہ تین ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جو کہ اسلحہ کی مجموعی عالمی تجارت کا صرف سات اعشاریہ آٹھ فیصد ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی اسلحے کے دو بڑے خریدار چین اور بھارت ہیں۔ تاہم روس اب اسلحے کی فروخت بڑھانے کے لیے لاطینی امریکہ کے ملکوں پر توجہ دے رہا ہے جن میں ویزویلا سرفہرست ہے۔

Thanks to BBC.CO.UK

-Similar Posts:
    None Found

This entry was posted on Monday, September 7th, 2009 at 3:50 pm and is filed under Urdu News. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed. You can leave a response, or trackback from your own site.

Leave a Reply